Poetry

ye sunte hi KHushi se hum bhi pichhe aa gae hain

Spread the love

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں
وہ صاف انداز میں سب کچھ ہمیں فرما گئے ہیں

سہولت سے کنارا کر کے کار ِ خیر میں بھی
ستم سارے ہماری ذات پر وہ ڈھا گئے ہیں

اِک ایسا حادثہ درپیش آیا تھا یہاں پر
پرندے ہی نہیں اشجار بھی گھبرا گئے ہیں

بھُلانے کا کوئی بھی راستہ چھوڑا نہیں ہے
ارے پاگل ترے ذہن و گماں پر چھا گئے ہیں

خوشی سے توڑ یا محفوظ رکھ مرضی ہے تیری
کھلونے ہیں ترے ہاتھوں میں جو ہم آ گئے ہیں

فقط دعوے نہیں تو جان بھی دیتا ہے ہم پر
ترے نخرے ہمیں کچھ اس سبب سے بھا گئے ہیں

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *