Poetry

Akeele beth kar roona parhe ga | Azeem Kamil

Spread the love

اکیلے بیٹھ کر رونا پڑے گا
ہمیں یہ داغ بھی دھونا پڑے گا

کہانی قصہ گو تک آئی کیسے ؟
یہ قصہ گو کو سمجھانا پڑے گا

تمہاری دید کے بھوکے ہیں صاحب
ہمیشہ آتے ہیں آنا پڑے گا

چلیں سقراط کے نقشِ قدم پر
ہمیں یہ زہر بھی کھانا پڑے گا

ہماری منزلیں طے ہو چکی ہیں
ہمیں پھر لوٹ کر جانا پڑے گا

بہت کردار سازی ہو چکی ہے
ہمیں اب سین میں آنا پڑے گا

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *