Poetry

kahan roney ki beqarari hai | Azeem Kamil

Spread the love

کہاں رونے کی بے قراری ہے

منتظر کب سے آہ و زاری ہے

 

زخم سارے رفو کریں گے ہم

ایک مدت سے مشق جاری ہے

 

بات سُن کر سمجھ بھی لیتے ہیں

ایسے لوگوں سے اپنی یاری ہے

 

وصل کی لذتیں نہ پوچھو یار

آگے بولوں تو شرم ساری ہے

 

گو ترے ساتھ چلتا رہتا ہوں

دور ہونے کا خوف طاری ہے

 

اپنی چاہت سے اِس کو میٹھا کرو

دوست!  نفرت کی جھیل کھاری ہے

 

شعر اظہر کا سُن کے لگتا ہے

ایک مصرع بھی ہم پہ بھاری ہے

 

عظیم کامل ۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *