Poetry

Jane kis khaak se bana hai wo | Azeem Kamil

Spread the love

جانے کس خاک سے بنا ہے وہ

جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے وہ

 

عادی مجرم ہیں ہم محبت کے

ہم سے پوچھو کہاں بِکا ہے وہ

 

لڑ کے میسج کرے گا سوری کا

ایسے پہلے بھی کر چکا ہے وہ

 

کیا ہمیں بھی معاف کر دے گا ؟

رکھ رکھاؤ تو جانتا ہے وہ

 

اُس کمینے کی بات کرتے ہو ؟

خیر ہم کو تو مانتا ہے وہ

 

کوزہ خود بول کر بتائے گا

چاہتوں سے بنا ہوا ہے وہ

 

ہر کسی سے نہیں لگاتا دل

یار اِتنا تو پارسا ہے وہ

 

میں نے سینے لگا کے چوما نئیں

کامل اِس بات پر خفا ہے وہ

 

عظیم کامل ۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *