Poetry

Humare kam ulte parh gaye hain | Azeem Kamil

Spread the love

ہمارے کام الٹے پڑ گئے ہیں

سبھی کے سرد لہجے پڑ گئے ہیں

 

تمہاری بات سنتے ہی اچانک

مرے سب رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں

 

کسی تصویر پر ہے کام جاری

کئی آنکھوں پہ حلقے پڑ گئے ہیں

 

تری آنکھوں کا پیچھا کرتے کرتے

مرے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ہیں

 

تمہاری کر رہیں ہیں جب سے غیبت

در و دیوار نیلے پڑ گئے ہیں

 

فقط وہ مسکرائے جا رہا ہے

تبھی تو پھول سستے پڑ گئے ہیں

 

لباسوں کی دلیلیں دینے والو

یہاں کردار میلے پڑ گئے ہیں

 

ہمارا آخری حل تھا وہ کھڑکی

اُسی کھڑکی پہ تالے پڑ گئے ہیں

 

عظیم کامل

Also read : Roz ek naya raz batate rehte hain | Azeem Kamil

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *