Poetry

Koi marta nai Khasarun se | Azeem Kamil

Spread the love

کوئی مرتا نہیں خساروں سے

ہم نے سیکھا ہے آبشاروں سے

 

جو مزاجاً یزید ہوتے ہیں

دور رہتا ہوں ایسے یاروں سے

 

بے زبانوں سے بات کرنی تھی

کام لینا پڑا اِشاروں سے

 

تیرے لہجے کا ذائقہ بھی دوست

آخرش جا ملا اناروں سے

 

درس ہے یہ ہمارے آقا کا

پیار کرنا ہے بے سہاروں سے

عظیم کامل

Also read : Khayal wa Khawab tak taza rahen ge | Azeem Kamil

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *