Poetry

Khushi se jhoomti pherti hai | Azeem Kamil

Spread the love

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے

مری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے

 

تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم

تمہیں جس سے محبت ہے اُسے سگریٹ بچاتی ہے

 

نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے

مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے

 

اُسے بجھتے دیوں سے اتنی الجھن ہے کہ مت پوچھو

کوئی جو لڑ کھڑا جائے اُسے فوراً جلاتی ہے

 

کتابیں چیخنے لگتی ہیں جب وہ پاس سے گزرے

انہیں وہ چوم کے رکھتی ہے سینے سے لگاتی ہے

 

زہین اتنی ہے اُس سے بحث تو ہم کر نہیں سکتے

مجھے منٹو کے افسانے بلا ناغہ سناتی ہے

 

عظیم کامل

Also read : Koi marta nai Khasarun se | Azeem Kamil

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *