Poetry

Tum se keun kar na pher mohabbat ho | Azeem Kamil

Spread the love

تم سے کیونکر نہ پھر محبت ہو

تم خدا کی عجب بناوٹ ہو

 

اُس کو بھیجیں ہیں تار آخر کار

اور مانگی دعا ، محبت ہو

 

وقت اُس کا کتابیں کھاتی ہیں

اِس سے بڑھ کر بھی کیا شکایت ہو

 

سلسلہ وار ہے دعا اپنی

پھر کبھی ٹوٹ کر محبت ہو

 

نام دل کا دیا گیا ہے تمہیں

تم بھی سینے میں اِک بغاوت ہو

 

اِس قدر نقش ہے تو آنکھوں میں

جس کو دیکھوں تری شباہت ہو

 

مستقل ڈھو رہے ہیں پسپائی

درد میں اور کتنی شدت ہو

 

بد دعا کیا کریں ترے حق میں

جا تجھے بھی عطا ہدایت ہو

 

ایسے ملتے ہو آ کے عجلت میں

جیسے یہ ظاہری شرافت ہو

 

یہ مرے ساتھ کیوں نہیں رہتے

در و دیوار کی وضاحت ہو

 

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *