Poetry

Sazaun par sazain parahe hain | Azeem Kamil

Spread the love

سزاؤں پر سزائیں پارہے ہیں

جو تم سے دور ہوتے جارہے ہیں

 

ابھی ہم نے کہاں حامی بھری ہے

ابھی سے اس کو نخرے آرہے ہیں

 

ہمیں تو نیند بھی آتی نہیں ہے

پھر اس کو خواب کیسے آرہے ہیں

 

اگرچے سادگی میں ہے ابھی وہ

سبھی اس کو پری بتلا رہے ہیں

 

وہ اس رستے سے گزرا بھی نہیں ہے

پرندے سر میں گاتے جا رہے ہیں

 

وہ لڑکی حد سے بڑھتی جا رہی ہے

پرانے عشق بھی تڑپا رہے ہیں

 

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *