Poetry

Jis sahulat se hum thikane lage | Azeem Kamil

Spread the love

جس سہولت سے ہم ٹھکانے لگے

لوگ باتیں بہت بنانے لگے

 

اک نظر میں مجھے پسند آیا

بھولنے میں جسے زمانے لگے

 

اس سے بڑھ کر بھی ظلم ہے کوئی

لوگ قرآں غلط اٹھانے لگے

 

اس میں اک یہ منافقت بھی ہے

بات ادھر کی ادھر لگانے لگے

 

پھر کہانی کا رخ بدل ڈالا

وہ ہمیں اور کچھ بتانے لگے

 

ہم بھی چرواہے کی محبت میں

ایک دن بکریاں چرانے لگے

 

لوگ دیتے مگر ترے طعنے

اور دل کو مرے جلانے لگے

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *