Poetry

Tere Fursat mein Ro chuka tha mein | Azeem Kamil

Spread the love

تیری فرقت میں رو چکا تھا میں

اب نئے دکھ میں مبتلا تھا میں

 

بات حد سے نکل بھی سکتی تھی

اس قدر تلخ ہو چکا تھا میں

 

آج تیرے خلاف ہوں اے دوست

تیری خاطر کبھی لڑا تھا میں

 

آنکھ سے ہو گیا لہو جاری

پیڑ پر نام لکھ رہا تھا میں

 

میں ترا ساتھ کب تلک دیتا

تیری عزت بچا رہا تھا میں

 

ہو گئی  دشمنی ہوا سے مری

اپنی چھت پر رکھا دیا تھا میں

 

عظیم کامل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *