Articles

سینٹ کاتماشا، دونوں جیت گئے، دونوں ہار گئے!

Spread the love
ہونی ہو کر رہی، آڑھتی جیت گئے، حفیظ شیخ ناکام، یوسف رضا گیلانی کامیاب، قومی اسمبلی میں عمران زنانہ نشست پر اپوزیشن ہار گئی، تحریک انصاف جیت گئی، اسمبلی میں حکومت کی اکثریت برقرار، دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا جائے گاO سینٹ:چیئرمین کا خفیہ انتخاب ہو گاO حفیظ شیخ پھر مشیر خزانہO اسحاق ڈار و درانی کے خلاف مقدمے ختمO فیصل واوڈا اسمبلی سے مستعفی، سینٹ میں کامیاب، بظاہر حلف برداری غلط تھی، ہائی کورٹ، نااہلی کا سامناO نیب: شہباز شریف کے خلاف نیا کیسO’’میں نے عمران خاں کے 20 ارکان توڑے تھے،15 بھاگ گئے‘‘ آصف زرداریO بھارت: کسانوں کا بڑی سڑکیں بند کرنے کا اعلانO سپریم کورٹ فاروق عبداللہ کو غدار قرار دینے کی درخواست مسترد، درخواست گزارکو 50 ہزار روپے جرمانہO امریکہ: ٹرمپ کے حامیوں کی ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری کی تقریبO ماسکو میں شدید برف باری، مکانات ڈھک گئے!O سعودی عرب: شاہی محافظ جرنیل، دو فوجی افسر کرپشن کے الزام میں گرفتارO گونگی بہری گیتا کو ماں مل گئی O کرونا پھر تیز، 75 ہلاکتیں، 1388 نئے مریض۔
٭قارئین کرام، کچھ بھی نہیں ہوا۔ سینٹ کی مویشی منڈی میں مویشیوں کی کھلی خریدوفروخت، آڑھتی جیت گئے۔پرانی پوزیشن برقرار! عمران خاں کو اب بھی اسمبلی میں اور اپوزیشن کو سینٹ میں بدستوراکثریت حاصل! عدم اعتماد کی جگہ عمران خاں کا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان رسمی بات ہے، سینٹ کی 48 نشستوں کے الیکشن کی چند الگ الگ مختصر باتیں:
Oحفیظ شیخ کو164، یوسف رضا گیلانی کو169 ووٹ ملے، دونوں اکثریت کے لئے 172 ووٹوں کی حد تک نہ پہنچ سکے۔
Oپختونخوا پنجاب اور بلوچستان میں اپوزیشن کی واضح شکست، سندھ اسمبلی میں اکثریت۔
Oآصف زرداری کے مطابق گیلانی کے لئے حکومت کے 20 ارکان توڑے تھے، صرف پانچ نے ساتھ دیا، 15 (پیسے لے کر!) بھاگ گئے!
Oسینٹ کے چیئرمین کا انتخاب خفیہ ہو گا۔ تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی مگر اپوزیشن کا اتحاد اکثریت میں آ چکا ہے۔ خفیہ الیکشن میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
O آئین کے مطابق وزیراعظم کے اعتماد یا عدم اعتماد کی رائے شماری کھلی، ہاتھ اٹھا کر ہو گا۔
O اسلام آباد کی نشست پر اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو صرف پانچ ووٹوں کی اکثریت ملی جبکہ تحریک انصاف کی خاتون رکن فوزیہ کو 13 ووٹوں (161 کے مقابلہ میں 174) کی اکثریت حاصل ہوئی۔ حکومت کو برقرار رہنے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت ہے۔
ان مختصر نکات سے صورت حال واضح ہوتی ہے کہ کوئی نئی بات سامنے نہیں۔ حکومت کو بدستور اسمبلی میں اور اپوزیشن کو سینٹ میں اکثریت حاصل ہے مگر پارلیمنٹ کی مویشی منڈی میں گھوڑوں، لوٹوں کی خریدوفروخت کے مکروہ گھنائونے کاروبار کے سامنے کسی کی اکثریت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ہمیشہ کروڑوں اربوں کے خریدار آڑھتی کامیاب رہتے ہیں۔ سینٹ میں پیپلزپارٹی کو چھ ارکان کی اکثریت حاصل تھی۔ حکومت کی ’آڑھت‘ نے کام دکھایا،پیپلزپارٹی کے چھ گھوڑے حکومت کی چراگاہ میں بھاگ گئے، پیپلزپارٹی ہار کر روتی پیٹتی رہ گئی۔ اب عمران خانی حکومت رو پیٹ رہی ہے کہ خفیہ رائے شماری مار گئی! اپوزیشن کی دو ٹکوں کی نوکری پر حکومت کا ساون لُٹ گیا! حکومت کے لئے غنیمت کہ اسلام آباد کی نشست پر سات ارکان کی بے وفائی کے باوجود زنانہ امیدوار فوزیہ نے 174 ووٹ حاصل کر لئے۔ یہاں آصف زرداری سے چوک ہو گئی، جہاں حفیظ شیخ کو ہرانے کے لئے 20 ووٹوں کی خریداری پر کروڑوں اربوں لٹائے تھے وہاں زنانہ شعبے میں بھی چند کروڑ کی آبیاری کر دیتے! خواتین بہت صابر شاکر ہوتی ہیں، اپوزیشن کو یہاں بھی کچھ نہ کچھ مالِ غنیمت کی رسد مل جاتی! اس وقت صورت حال یوں ہے کہ سندھ اسمبلی سے اپوزیشن کو بارہ میں سے دس امیدوار اور اپوزیشن (تحریک انصاف، جی ڈی اے) کو دو نشستیں ملی ہیں جب کہ حکومت کو بلوچستان سے 12 میںسے آٹھ پختونخوا سے 12 میں سے 10 پنجاب میں 11 میں سے 6 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ اس صورت حال میں عمران خاں کی حکومت کو وفاق اور تین صوبوں میں سبقت حاصل ہے۔ مگر وفاق میں یہ سبقت تقریباً ہاتھ  سے نکل گئی ہے۔ حکومت برقرار رکھنے کے لئے 172 ووٹ درکار ہیں۔ خاتون امیدوار فوزیہ کو محض 174 ووٹ ملے ہیں، گویا صرف دو ووٹ زیادہ ہیں، اپوزیشن کی چیل نے جھپٹ کر یہ دو ووٹ بھی اچک لئے تو حکومت کا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا اور لاد چلے گا بنجارا!‘‘
اور کیا سِتم انگیز سیاست ہے کہ آصف زرداری کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو حکومت کے کم از کم 20 گھوڑے خریدے تھے (اچھی خاصی مالی دیکھ بھال کی تھی!) افسوس کہ 15 گھوڑے دانے کھا کر بھا گ گئے! زرداری صاحب کو دکھ ہے کہ یوسف رضا گیلانی (169) کو حفیظ پاشا (164) پر صرف پانچ کی سبقت حاصل گھوڑوں کی خفیہ رسد کی سبقت حاصل ہوئی! باقی بے وفا ثابت ہوئے۔
مجھے سرکاری چوبداروں کے ’انگور کھٹے ہیں‘ قسم کے بیانات پر ہنسی آ رہی ہے۔ اپنے ہری چُگ کبوتروں کو غیر کے چھجے پر جانے سے تو نہ روک سکے اور کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہے ہیں۔
٭بعد از بسیار خرابی نیب نے مفرور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور پختونخوا کے سابق سینئر وزیر اکرم خاں درانی کے خلاف کرپشن وغیرہ کی تحقیقات بند کر دی ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف بے کا طویل تحقیقات کے ذریعے کسی ’کرپشن‘ کا ایک پیسہ بھی وصول نہ ہوا اور سرکاری خزانہ سے پاکستان اور لندن میں تحقیقات کے نام پرکروڑوں خرچ کر دیئے گئے۔ اس ناکام کھیل تماشے پر ضائع ہونے والے اس سرکاری سرمایہ اور وقت ضائع کرنے کا ازالہ کون کرے گا؟ کیا پھر کوئی تجوری بھر گئی؟؟ کسی روز یہ خبر بھی آ سکتی ہے کہ کوئی ثبوت نہ ملنے پر شریف اور زرداری خاندانوں، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی و خواجہ برادران کے خلاف بھی کرپشن وغیرہ کے ساتھ مقدمات ختم کر دیئے گئے ہیں! اندھیر نگری چوپٹ راج۔
٭ایک اہم خبر:2 سال قبل بھارت میں لاپتہ ہونے اور پھر کراچی میں ایدھی ٹرسٹ میں گونگی بہری پرورش پانے والی گونگی بہری ’گیتا‘ کو بالآخر ماں مل گئی! پانچ سال قبل 24 سالہ گیتا کو بھارت کی وزیرخارجہ ’سشما سوراج‘ اسے پاکستان سے اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ ان پانچ برسوں میں بھارتی حکومت نے مختلف صوبوں میں اس کے والدین کی تلاش شروع کی مگر کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ عجیب بات کہ تقریباً ایک درجن افراد نے اس کا والد ہونے کے دعوے کئے مگر ڈی این اے ٹیسٹ میں تمام ناکام رہے۔ بالآخر پانچ سال کی تلاش کے بعد صوبہ مہارا شٹر کے ایک شہر ’بھاونی‘ کے نواحی دیہات ’نائیگائوں‘ میں اس کی ماں مِینا مل گئی۔ اس نے بتایا کہ گیتا کا اصل نام ’رادھا‘ ہے وہ 9 سال کی عمر میںغائب ہو گئی تھی۔ اس کا والد فوت ہو گیا اور ماں مینا (اب عمر 71 سال) نے دوسری شادی کر لی۔ وہ ناخواندہ عورت ہے۔ اس سے گیتا کو ملوایاگیا تو 29 سالہ گیتا نے ماں کو پہچان تو لیا مگر اس کے پاس رہنے سے انکار کر دیا۔
وہ کراچی میں پانچ سال عبدالستار ایدھی (مرحوم) کے پاس بطور مہمان رہی۔ ایدھی صاحب نے اسے حقیقی باپ کی شفقت دی اور بہت ناز و نعمت کے ساتھ پرورش کی، اس کے لئے ہندو مذہب والی ساری رسوم کا انتظام کیا۔ پھر بھارت کے سرکاری ریسٹ ہائوسوں میں رہی۔ وہ کسی طرح سینکڑوں کلو میٹر دور سے اپنے گائوں سے دہلی اور وہاں سے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین سے لاہور پہنچی، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ اسے ایک روز لاہور میں رینجرز نے گھومتے پھرتے دیکھ کر ایدھی ٹرسٹ کے حوالے کر دیا۔ ایدھی صاحب نے اس کا نام گیتا رکھ دیا۔ عجیب بات کہ وہ ہندی میں عبارت لکھ سکتی تھی، باتیں سمجھ لیتی تھی۔ مگر اپنا اتا پتا نہیں بتا سکتی تھی۔ اس کی ماں مینا کا کہنا ہے کہ وہ اکثر گھر سے بھاگ جاتی تھی اور لوگ اسے واپس چھوڑ جاتے تھے۔ اب غریب ماں اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔ گیتا خود بھی پاکستان اور بھارت میں رفاہی اداروں کی حفاظت میں آرام دہ زندگی گزارتی رہی ہے۔ اس نے اشاروں سے بتایا ہے کہ وہ شہر میں رہ کر مڈل پاس کر کے نوکری کرنا چاہتی ہے۔

Related Articles