Articles

کیا گھر بسانے کے لئے چاند سا چہرہ کافی ہوتا ہے؟

Spread the love

عمیر کے گھر والے لڑکی ڈھونڈنے نکلے تو صفیہ کے علاوہ کوئی نگاہ میں جچی ہی نہیں۔ جس کی وجہ صفیہ کا بے پناہ حسن، گورا رنگ اور لمبا قد تک۔ صفیہ واقعی اتنی خوبصورت تھی کہ اسے جو دیکھتا پھر دیکھتا ہی رہ جاتا۔ عمیر کے گھر والوں نے بھی آؤ دیکھا نا تاؤ اور فوراً چٹ منگنی پٹ بیاہ کردیا۔ اب کچھ عرصہ تو صفیہ کے حسن کے خوب چرچے ہوئے۔ لیکن رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آئی تو گھر والوں کو صفیہ کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے لگے۔

تو جیسے انسان ہی نہ سمجھتی تھی۔ ہر بات میں طنز اور تڑ سے جواب لیکن بوڑھے ساس سسر کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ شوہر کی زندگی الگ اجیرن کررکھی تھی۔ عمیر جو چاند سی دلہن پا کر بہت خوش تھا، اب بیوی کے طور اطوار دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا۔ غرض وہ لڑکی جس کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے پسند کیا گیا تھا اپنی بد سیرتی کی وجہ سے س کے دلوں سے اترتی جارہی تھی۔

لوگ شادی کرتے ہوئے حسن کو مدِنظر رکھتے ہیں لیکن سیرت کو فراموش کردیتے ہیں جس پر گھر بسانے کا اصل دارومدار ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس موضوع پر بات کریں گے کہ گھر بسانے کے لئے حسین چہرہ کتنی اہمیت رکھتا ہے اور ایک حسین لڑکی اگر مغرور یا بدتمیز ہو تو وہ کس طرح اپنے گھر والوں کے آگے اپنا مقام کھوتی ہے

حسن کا رعب جھاڑنا

مغرور اور حسین لڑکیاں اپنی خوبصورتی کو نمایاں کرنے کے لئے دوسروں پر رعب جھاڑنے کو بہت اچھا سمجھتی ہیں۔ یہ نہیں سوچتیں کہ گھر ان سے پہلے بھی چل رہا تھا اور اس گھر میں سب کا دل جیت کر اپنی جگہ بنانے کے بجائے سسرال والوں کو نخرے اور رعب دکھا کر اپنی بڑائی ثابت کرنے کی کوششش کرتی ہیں۔ یہ انداز کوئی چند دن تو برادشت کرسکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ نندیں اور دیور لحاز میں خاموش رہتے ہیں لیکن بعد میں ان کی زبانیں بھی جواب دینے لگتی ہیں۔

شوہر کو کمتر سمجھنا

مغرور اور حسین لڑکیاں اپنی خوبصورتی کو نمایاں کرنے کے لئے دوسروں پر رعب جھاڑنے کو بہت اچھا سمجھتی ہیں۔ یہ نہیں سوچتیں کہ گھر ان سے پہلے بھی چل رہا تھا اور اس گھر میں سب کا دل جیت کر اپنی جگہ بنانے کے بجائے سسرال والوں کو نخرے اور رعب دکھا کر اپنی بڑائی ثابت کرنے کی کوششش کرتی ہیں۔ یہ انداز کوئی چند دن تو برادشت کرسکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ نندیں اور دیور لحاز میں خاموش رہتے ہیں لیکن بعد میں ان کی زبانیں بھی جواب دینے لگتی ہیں۔

اپنے حسن میں گم رہ کر زمہ داریوں کو فراموش کردینا

مغرور لڑکیاں اپنے حسن کو چار چاند لگانے کے لئے ہر وقت مذید ٹوٹکے آزماتی رہتی ہے یا پھر پارلر کے چکر کاٹتی رہتی ہیں۔ مزاج کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ نہ گھر کی فکر ہوتی ہے، نہ شوہر اور بچوں کا خیال۔ باقی سرال والے تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ یہ عادات و اطوار کچھ عرسے تو چل جاتے ہیں لیکن بعد میں ان کی وجہ سے بسے بسائے گھر بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔

جیسے کہ ہمارے معاشرے میں رواج ہے کہ شادی کے لئے حسین سے حسین لڑکی کو ترجیح دی جاتی ہے اور عام اور سادہ مزاج لڑکیوں کو شادی کے لئے نہیں پسند کیا جاتا تو اس رویے کو تبدیل ہونا چاہیے۔ حسین چہرہ ایک نہ ایک دن ڈھل جاتا ہے لیکن اچھی سیرت ایسا گوہر ہے جو گھروں کو جوڑ کر رکھتا ہے۔

رشتے کے لیے لڑکی کی تلاش میں اسلام ہماری رہنمائی کیسے کرتا ہے

حدیث شریف میں آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شادی عموماً چار چیزوں کی وجہ سے کی جاتی ہے:

1- حسب نسب کی وجہ سے۔

2- مال کی وجہ سے ۔

3- حسن وجمال کی وجہ سے

4- دینداری کی وجہ سے۔

لیکن تم لوگ دین داری کو ترجیح دیا کرو۔ اگر ایسا نہ کروگے تو دنیا میں فساد ہوگا۔

جبکہ لڑکیوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اللہ نے انھیں اچھی شکل سے نوازا ہے تو اس پر اللہ کی شکر گزار رہیں اور اپنے دل اور اعمال کو بھی خوبصورت بنائیں جن سے گھر والے بھی خوش رہیں اور اللہ بھی راضی رہے۔ شکل صورت اور جوانی فانی چیزیں ہیں۔ زندگی بھر کے رشتے نیک نیتی،
خلوص اور اچھے اخلاق سے بنتے ہیں۔ آج اگر آپ اپنے حسن سے کسی کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو بھی گئیں تو بہت ممکن ہے کل آپ کو کسی کی ضرورت ہو اور آپ کا رویہ یاد کرکے دوسرا آپ کی مدد کو نہ آئے۔

Related Articles