Poetry

فقط باتیں بنا رکھتی ہے دنیا – Muzammil Abbas Shajar

Spread the love
فقط باتیں بنا رکھتی ہے دنیا
بھلا جینے بھی کب دیتی ہے دنیا
تو کتنا مختلف ہے اس سے مولا
ترے بارے میں جو کہتی ہے دنیا
ہم اس کو جانتے ہیں خود سےبڑھ کر
ہمارے سامنے رہتی ہے دنیا
ہوا بھی خوشبووں سے کھیلتی ہے
اسے پھر کس لیے سہتی ہے دنیا
تمہارے ہر اشارے پر چلے گی
ہماری کب بھلا سنتی ہے دنیا
گنوا بیٹھا ہوں میں اس کا تناسب
سو میری آنکھ سے بہتی ہے،،دنیا
وہی ماضی میں مستقبل کو دیکھیں
کہ جن کے حال میں رہتی ہے دنیا
تمہارا نام جپتے ہیں، عجب ہے
ہمارے نام سے جلتی ہے دنیا
جو اس کی ہاں میں ہاں کو بولتا ہے
اُسے اپنا بنا لیتی ہے دنیا
محبت دائمی گھر ہے شجر کا
اسی کے سائے میں ملتی ہے دنیا
مزمل عباس شجرؔ

Related Articles