Poetry

حدودِ عقل سے بالا وہی اِک لفظ لاتا ہوں – Muzammil Abbas Shajar

Spread the love
حدودِ عقل سے بالا وہی اِک لفظ لاتا ہوں
محبت کیا ہے اور کیسے ہو کامل یہ بتاتا ہوں
کوئی نظروں سے چھلکاتا ہوا گر جام آ جائے
کسی کی رخصتی پر دن میں ہی گر شام آ جائے
گھٹائیں دیکھ کر تجھ کو جو کوئی زلف یاد آئے
کسی کے ذکر پر ہو تیز دھڑکن آنکھ بھر آئے
اگر محسوس ہو دل میں کہ کوئی ایسی ہلچل ہے
سمجھ لینا کہ آغازِ محبت کا یہ حاصل ہے
تری چاہت اجالے ہوں اندھیروں سے نہ نفرت ہو
تو دنیا کے ہر اک انسان سے رکھتا اخوت ہو
محبت پہلا وہ جزبہ جسے خالق نے اپنایا
محبت کی بدولت ہی یہ عالَم ہم کو مل پایا
محبت رونقِ دنیا محبت وجہِ فطرت ہے
یہ جاں قیمت خزانہ ہے محبت رب کی نعمت ہے
اترتی ہے جو دل پر ہی محبت ایسی آیت ہے
کہاں بس میں کسی کے یہ فقط رب کی عنایت ہے
محبت روح میں ہو جائے گر شامل تو پھر انساں
مقدر کا سکندر ہے فرشتوں کا بھی ہے سلطاں
چمن کی سب بہاروں کو سبھی ہنستے اشاروں کو
نکھرتی پھول کلیوں کو مہکتے سبزا زاروں کو
اگر قربان کر دے تُو کسی کی ذات کی خاطر
تری دنیا ترا مقصد ترا باطن ترا ظاہر
سو تیری زندگی میں جب وفا ظاہر کرے خود کو
تری ہستی کی سر حد سے انا باہر کرے خود کو
سمجھ لینا کہ تکمیلِ محبت مل گئی تم کو
کسی کے ساتھ نفرت سے شفاعت مل گئی تم کو
محبت کی بدولت ہی تو ہر اک سمت اجالا ہے
محبت کتنی افضل ہے اسے خود رب نے پالا ہے

Related Articles