Poetry

دنیا سے کوچ کر گیا وہ شاہ کا غلام | Muzamil Abbas Shajar

Spread the love
دنیا سے کوچ کر گیا وہ شاہ کا غلام
ہر دور میں رہے گا برنگِ سخن مدام
محسن شہید سے میں ملا تو پتہ چلا
تقسیم اب بھی کر رہا ہے دولتِ کلام
سچ ہے کہ ان سے ملنا خیالی تو تھا نہیں
یہ رمزِ حُب ہے ہو نہ سکے گی بیاں تمام
ہو کر شہید بزمِ شہِ کربلا ملی
محسن ترے نصیب کو کرتے ہیں ہم سلام
الہام کی گھٹا میں دھلے لفظ تیرے ہیں
فخرِ انیس و غالب و ساغر عدم خیام
توڑا ہے تونے شہرِ غزل کے سکوت کو
حرفِ بقا بنا ہے سخن میں تمہارا نام
مدحت سرا ہوا ہے شجر تیری شان میں
یہ شعر کچھ بنے ہیں جو چھلکا ہے حُب کا جام
مزمل عباس شجر

Related Articles