Articles

اٹک کا قصور کیا ہے؟؟؟

Spread the love

میرے اٹک کا قصور کیا ھے؟ِ؟؟

یہ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا قلعہ رھا ھے۔۔۔ کبھی ق لیگ تو کبھی نون لیگ اور اب پی ٹی آئی اٹک کو اپنا قلعہ قرار دیتی ھے۔۔۔ میری ذاتی رائے میں یہ ھمیشہ قلعہ رھا ھے مگر وہ قلعہ جو محصور ھو ۔۔۔ جس کا محاصرہ اس کی اپنی اشرافیہ(ایلیٹ کلاس) نے کئے رکھا۔۔۔

آج کل راولپنڈی رنگ روڈ اور اٹک لوپ کے چرچے ھیں۔۔۔

کیا یہ مالیاتی سکینڈل ھے؟

حکومتی بد انتظامی ھے؟

افسر شاھی کی سازش ھے؟

سیاستدانوں کی مفاد پرستی ھے؟ مجھے کیا معلوم؟

مجھے تو یہ پتہ ھے کہ
عید بقر عید ھو یا کوئی اور ثقافتی اسلامی تہوار ھو بھلے عام دن ھی کیوں نہ ھوں، اٹک شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام ھوتی ھے

ایمبولینس فائر بریگیڈ جیسی ریسکیو سروس کے ساتھ ساتھ عام گاڑیاں بھی ایک بے ہنگم ھجوم میں پھنسی رھتی ھیں۔۔۔

چھوئی روڈ کی چوڑائی اس قدر ھے کہ حیرت ھوتی ھے کہ گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اب تک نام کیوں نہیں آیا ۔۔۔ کیمبل پور (موجودہ اٹک) شہر کی خوبصورت ٹاؤن پلاننگ کرنے والا گورا اپنے گوراقبرستان کی جگہ پر قبضہ اور وہاں ٹریفک کا طوفان بد تمیزی دیکھ لے تو غش کھا کر دوبارہ فوت ھو جائے۔۔۔

چوہتر سال میں نہ کوئی نئی سڑک بنی ھے اور نہ ھی شہر کے داخلی خارجی سڑکوں کی توسیع کی گئی ھے

حاجی شاہ روڈ سنگل۔۔۔

فتح جنگ روڈ سنگل۔۔۔

سنجوال روڈ سنگل ۔۔۔

ہٹیاں تا شوکت شاہ

چوک روڈ سنگل ۔۔۔۔

چھوئی روڈ سنگل۔۔۔

بلکہ شہر کی حدود میں اس چھوئی روڈ کو تو روڈ کہنا بھی مذاق ھے

حد تو یہ ھے کہ گیدڈ چوک،گھوڑا چوک،شیراں والا چوک سب جانوروں کے ناموں پر ھیں۔

اوپر سے بد تہذیب ٹریفک جس سے ڈر پیدا ھو گیا ھے کہ یہ جانور اعتراض ھی نہ کر دیں کہ ھمارے ناموں سے ان چوراھوں کے نام منسوب نہ کئے جائیں۔

اندرون شہر گلیوں میں اور فٹ پاتھوں پر رکشہ اور ٹھیلہ مافیا ناجائز قابض ھیں جنہیں ہر سیاستدان نے اپنے دور میں اپنے سیاسی مفاد کیلئے ہلہ شیری دی۔۔۔

گاڑیوں کی پارکنگ کی کوئی سہولت میسر نہیں۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں شہر کے اکلوتے فیملی پارک یعنی” لالہ زار پارک” کی توسیع کرنے کی بجائے وہاں”فخریہ پیشکش” کے طور پر سبزی منڈی کا قیام عمل میں لایا گیا محض اس لئے کہ بلدیاتی سیاست کے اکثریت نانو خان آڑھتی حضرات تھے اور اس وقت سبزی منڈی کے لئے سب سے آسان اور فوری دستیاب متبادل جگہ وہ بد نصیب فیملی پارک یعنی لالہ زار پارک ھی تھا۔۔۔

رات9/8 بجے کے بعد شہر سے میں آنے اور شہر سے جانے کے لئے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں کیونکہ جی ٹی روڈ (پندرہ) کلو میٹر دور ھے ، موٹر وے (پینتیس) کلو میٹر دور ھے۔ کسی حاکم وقت یا سیاستدان کو توفیق نہیں ہوئی کہ عام آدمی کے اس مسئلہ پر توجہ دے کیونکہ ان کی ترجیحات کچھ اور ھوتی ھیں۔۔۔

غازی بروتھا پاور پراجیکٹ کا مقامی لوگوں کو کیا فائدہ ھوا، یہاں پیدا ھونے والی بجلی دینا یا رائلٹی دینا تو کجا سستی بھی نہیں ملی۔۔۔

واسا لاھور میں پانی روزانہ20گھنٹے فراھم کرتا ھے جس کے ماہانہ چارجز 200روپے ھیں یعنی 33پیسے فی گھنٹہ

جبکہ اٹک شہر میں بلدیہ کی واٹر سپلائی روزانہ ایک گھنٹہ ھے اور ماہانہ چارجز 300روپے ھیں یعنی 10روپے فی گھنٹہ

صحت کی سہولیات کا یہ حال ھے کہ پورے ضلع میں ایک بھی کارڈیالوجی کا شعبہ نہیں۔۔۔

میڈیکل،انجینئرنگ،زراعت،بزنس ایڈمنسٹریشن، آئی ٹی کے شعبوں کا ایک بھی قابلِ ذکر تعلیمی ادارہ نہیں

اٹک کے عام شہری کی حیثیت سے صرف ایک سوال ھے

“میرے اٹک کا قصور کیا ھے؟”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *