Health & FitnessInternationalNewsUrdu News

سعودیہ عرب میں چائنہ کی ویکسین لگوانے والوں پر پابندی سعودیہ میں افرادی قوت کی قلت

Spread the love


چائنہ ویکسین لگوانے والوں کو سعودیہ میں داخل ہونے کی اجازت کیلیے بات چیت شروع کردی ہے۔

گزشتہ ماہ سعودیہ حکام نے سعودی عرب آنے والوں کیلیے صرف چار اقسام کی ویکسین کی منظوری دی تھی جن میں فائزر، موڈرنا، آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا اور جانسن شامل ہیں لیکن پاکستان میں لگائی گئی سائنوفام اور سائنو ویک ویکسین شامل نہیں تھی۔
سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ ریاض اور پاکستانی قونصل خانہ جدہ نے بھی سعودی حکومت سے سائنو فارم کو منظور کروانے کے لیے رابطے کر لیے ہیں اور سعودی حکومت نے سائنوفام ویکسین لگوانے والے افراد کو سعودیہ میں داخل ہونے کی اجازت دیے جانے پر بات چیت شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں آنے والی پہلی ویکسین ہی سائنو ہے جو گزشتہ چار ماہ سے لگائی جارہی ہے تاہم اس وقت پاکستان میں کئی ممالک کی ویکسین دستیاب ہیں جبکہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد سائنو فارم ویکسین لگوا چکی ہے جس سے ان کی سعودی عرب واپسی مشکل ہورہی ہے۔

آٹھ مئی کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سائنوفام ویکسین کو تسلیم کیے جانے کے بعد اس بات کے واضح امکانات ہوگئے ہیں کہ سعودی حکام کی جانب سے سائنو کو قبول کرلیا جائے گا جس کے بعد ملازمت، عمرہ زائرین اور حج پر جانے والے خواہمشمند افراد سعودیہ جاسکیں گے۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم یوا ہے کہ عنقریب اقامہ رکھنے والے مقیمین کے لیے فلائٹ آپریشن کھولنے اور رواں سال جولائی میں ہونے والے حج کے موقع پر ممکنہ طور پر بیرونی ممالک کے مسلمانوں کے لیے فلائٹس کھولنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور سعودی عرب میں اقامہ ہولڈرز اور عمرہ اور حج پر صرف وہی افراد جا سکیں گے جو منظور شدہ کورونا ویکسین میں سے کسی ویکسین کے (دو انجکشن) لگوا چکے ہوں یا پہلی خوراک کے انجکشن کو لگے (چودہ دن) مکمل ہو چکے ہوں۔

عمرے اورحج پرجانے والے ہزاروں خواہشمند افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ سائنو فارم ویکسین لگوانے والے افراد کو سعودی جانے کی اجازت دی جائے، سعودی حکومت نے (2جون2021) تک جن افراد کے اقامہ یا خروج و عودہ ویزا ختم ہوگیا ہے تو ان کے اقامے اور ویزے کی مدت خودکار ڈیجیٹل سسٹم کے تحت اگلے (تین ماہ) کے لیے بڑھادی گئی ہے جس سے سعودیہ میں ملازمت کرنے والے اقامہ ہولڈرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اب سائنو فارم ویکسین کے منظور ہونے اور فلائٹ آپریشن کھلنے کے منتظر ہیں تاکہ اپنی ملازمت پر واپس جا سکیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *