Art and EntertainmentNewsPakistanUrdu News

میں مسلمان نہیں ہوں لیکن میں نے کبھی مختصر لباس پہننے کو ترجیح نہیں دی۔سنیتا مارشل

Spread the love

سنیتا مارشل نے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان میں سوشل میڈیا پر فالوورز کی دوڑ اور پاکستانی کلچر کے بارے میں بات کی۔ سنیتا مارشل نے کہا آج کل ہمارے یہاں ایک ریس لگی ہوئی ہے کہ کس اداکار کے انسٹاگرام پر فالوورز کتنے زیادہ ہیں اور اس ریس نے بہت سے لوگوں کومتاثر کیا ہے۔ خاصل طور پر اس انڈسٹری میں آنے والے نئے اداکار سوشل میڈیا فالوورز بڑھانے کے چکر میں اکثر اپنی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں۔جب کہ حقیقت میں وہ ایسے بالکل نہیں ہوتے جیسا وہ سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔

سنیتا مارشل نے کہا آپ پاکستان میں رہتے ہیں جو ایک مسلم ملک ہے، اگرچہ میں مسلمان نہیں ہوں لیکن مجھے پاکستان کی ثقافت اور کلچر کے بارے میں معلوم ہے لہذا مجھے اس طرح کا لباس پہننا بالکل پسند نہیں جو پاکستانی کلچر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مجھے مختصر لباس پہننا بالکل پسند نہیں جس میں آپ کا جسم نظر آرہا ہو۔

سنیتا مارشل نے کہا جب میں نے ماڈلنگ شروع کی اس وقت فیشن شوز کے دوران کبھی کبھی ماڈلز کو مختصر لباس پہننے کے لیے کہاجاتا تھا لیکن میں ہمیشہ منع کردیتی تھی کیونکہ مجھے مختصر لباس پہننا پسند نہیں ہے اور میں کہتی تھی آپ کو مجھے شو میں لینا ہے تو لیں ورنہ نہ لیں لیکن میں مختصر لباس نہیں پہنوں گی اور نہ ہی اپنی حدود سے تجاوز کروں گی۔

سنیتا مارشل نے بتایا کہ اب جو لڑکیاں ماڈلنگ کے شعبے میں آرہی ہیں وہ ’’نا‘‘ کہتے ہوئے ڈرتی ہیں اور کہتی ہیں اگر ہم نے مختصر لباس پہننے سے منع کیا تو ہمیں شو سے نکال دیا جائے گا تو میں ان سے کہتی ہوں کہ آپ کو اپنے اندر اتنی خوداعتمادی پیدا کرنی ہوگی کہ آپ سامنے والے کو ’’نا‘‘ کہہ سکیں۔

سنیتا مارشل نے شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ (کام کے بدلے نامناسب مطالبات) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ اس قسم کا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا کیونکہ میں شروع سے بہت لیے دئیے رہنے والی لڑکی ہوں، میں زیادہ بات نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی فضول حرکت کرتی ہوں لہذا میرے رویے سے سامنے والے کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ یہ اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ میرے ساتھ کبھی اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *