NewsPakistanTips & TricksUrdu News

ٹیلی کام انڈسٹری نے موبائل کال پر 75 پیسہ ٹیکس کو ناقابل عمل قرار دیدیا

Spread the love

ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق موبائل کال کی مدت پر ٹیکس کا نفاذ زمینی حقائق اور تکنیکی پہلوؤں سے جانا جاتا تھا ، ٹیکس عائد کرکے بجٹ کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ، حکومت نے ان کا مشورہ نہیں دیا۔ صارفین کو بنڈل ٹیلی مواصلات کی زنجیر کا خاتمہ حکومت کی جانب سے سرچارجز میں کمی کی وجہ سے ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ 98 فیصد پری پیڈ صارفین مشکلات پیدا کررہے ہیں ، یہ ٹیکس کا سب سے بڑا تجربہ ہے جس نے لوگوں کو خدمات فراہم کیں۔ ٹیکس سے پانچ منٹ قبل کال کاٹنا دوبارہ شامل ہونے کی دستاویز تھی جس میں وہ اضافی ٹیکس سے بچ جاتے ہیں اور حکومت کو کچھ نہیں ملتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس صرف ٹیلی کام آپریٹرز کی پریشانی اور صارف کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور یہاں کوئی سرکاری ٹیکس نہیں ہے۔

KARACHI: The telecom industry on a five-minute call has demanded 75 paisa tax collection from the contract for implementation of wrongdoing.

According to telecom industry experts, the implementation of tax on mobile call duration was known from the ground realities and technical aspects, failed to achieve budget targets by imposing taxes, the government did not suggest them. The end of the chain of bundled telecom services to consumers is due to a reduction in surcharges by the government.

People associated with the telecom industry say that 98% of prepaid customers are creating problems, this is the biggest tax experience that has provided services to the people. The call cut five minutes before the tax was a document of reunion in which they avoid additional taxes and the government gets nothing.
Experts also say that the additional tax only becomes a complication of telecom operators and a source of inconvenience to the user and there is no government tax.

ALSO READ:
نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں خارج

کورونا وائرس ’واقعی میں‘ مردوں کو بانجھ کرسکتا ہے

T20 World Cup moves from India to UAE

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *