Poetry

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے

احمد فراز کی شاعری

Spread the love

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے

بول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئے

کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہم

کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے

وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر

گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے

اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے

جس سمت بھی ہو گرد سفر جانا چاہیئے

کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملے

ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے

یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے

یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیئے

ALSO READ:کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *