Poetry

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

Spread the love

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث

ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے

خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے

لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں

کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی

وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے

کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ

غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے

ALSO READ:
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *