Poetry

سارا شہر بلکتا ہے پھر بھی کیسا سکتہ ہے

Ahmed Faraz poetry

Spread the love

سارا شہر بلکتا ہے

پھر بھی کیسا سکتہ ہے

گلیوں میں بارود کی بو

یا پھر خون مہکتا ہے

سب کے بازو یخ بستہ

سب کا جسم دہکتا ہے

ایک سفر وہ ہے جس میں

پاؤں نہیں دل تھکتا ہے

ALSO READ:
پھول اتنی خوشی منائیں گے تیرے بالوں کو یوں سجائیں گے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *