Poetry

رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے

Ahmed Faraz Urdu ghazals

Spread the love

رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے

آپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئے

ان کے آ جانے سے کچھ تھم سے گئے تھے آنسو

ان کے جاتے ہی مگر رونے کے عادی روئے

ہائے پابندیٔ آداب تری محفل کی

کہ سر راہ گزر رونے کے عادی روئے

ایک تقریب تبسم تھی بہاراں لیکن

پھر بھی آنکھیں ہوئیں تر رونے کے عادی روئے

درد مندوں کو کہیں بھی تو قرار آ نہ سکا

کوئی صحرا ہو کہ گھر رونے کے عادی روئے

اے فرازؔ ایسے میں برسات کٹے گی کیوں کر

گر یوں ہی شام و سحر رونے کے عادی روئے

ALSO READ:
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *