Poetry

بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے

اک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئے

Spread the love

بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے

اک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئے

دیکھا جسے بھی اس کی محبت میں مست تھا

جیسے تمام شہر ہو دارو پیے ہوئے

تکرار بے سبب تو نہ تھی رند و شیخ میں

کرتے بھی کیا شراب تھے ہر دو پیے ہوئے

پھر کیا عجب کہ لوگ بنا لیں کہانیاں

کچھ میں نشے میں چور تھا کچھ تو پیے ہوئے

یوں ان لبوں کے مس سے معطر ہوں جس طرح

وہ نو بہار ناز تھا خوشبو پیے ہوئے

یوں ہو اگر فرازؔ تو تصویر کیا بنے

اک شام اس کے ساتھ لب جو پیے ہوئے


ALSO READ:

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *