Poetry

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

Spread the love

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں

مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے

کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں

کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے

شائستگیٔ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا

نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے

کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزم جاں میں

کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے

عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی

پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

ALSO READ:
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *