Poetry

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں

Ahmed Faraz poetry collection

Spread the love

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں

لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں

خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج

تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں

ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں

اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں

جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو

کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں

زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔ

اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانا نہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *