Poetry

اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا

Ahmed Faraz poetry

Spread the love

اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا

ایسی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہے

جانے زنداں سے ادھر کون سے منظر ہوں گے

مجھ کو دیوار ہی دیوار دکھائی دی ہے

دور اک فاختہ بولی ہے بہت دور کہیں

پہلی آواز محبت کی سنائی دی ہے

ALSO READ:
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

جو گزاری نہ جاسکی ہم سے

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں

بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *