Poetry

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

Khard mandoon sy Kya pochoun

Spread the love

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں
یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

ALSO READ:
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

Majnu ny sher choda toh sehraa b chod dy

Tere Ishq ki Inteha Chata houn

Sitaron se aagy jahan aur b hai

اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *