Poetry

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love


خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں

خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں

یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے
تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں

مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت
کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں

ALSO READ:
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *