Poetry

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر | Allama Iqbal

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشاد شرق و غرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

ALSO READ:
Majnu ny sher choda toh sehraa b chod dy

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

تیرااندیشہ افلاکی نہیں ہے  تری پرواز لولاکی نہیں ہے

عالم آب و خاک و باد سر عیاں ہے تو کہ میں | Allama Iqbal

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *