Poetry

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی | Allama Iqbal

Urdu ghazal

Spread the love


وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہے
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومیؔ کبھی پیچ و تاب رازیؔ

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

ALSO READ:
ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارہ درخت سے ٹکرا کر تباہ، 9 پیرا شوٹرز ہلاک

سارا شہر بلکتا ہے پھر بھی کیسا سکتہ ہے

Majnu ny sher choda toh sehraa b chod dy

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

تیرااندیشہ افلاکی نہیں ہے  تری پرواز لولاکی نہیں ہے

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر | Allama Iqbal

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے

جو گزاری نہ جاسکی ہم سے

پیا جی کی سواری جا رہی ہے

دکھ فسانہ نہیں کے تجھ سے کہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *