Poetry

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں | Allama Iqbal

اردو شاعری، اردو غزلیں

Spread the love

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں
ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں جاہل ہوں میں

میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی
جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست
وائے محرومی خذف چین لب ساحل ہوں میں

ہے مری ذلت ہی کچھ میری شرافت کی دلیل
جس کی غفلت کو ملک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں

بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہو
تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

ALSO READ
جو گزاری نہ جاسکی ہم سے

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر | Allama Iqbal

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی | Allama Iqbal

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *