Poetry

فطرت کو خرد کے روبرو کر | Allama Iqbal

Urdu Hindi poetry

Spread the love


فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر

تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر

تاروں کی فضا ہے بیکرانہ
تو بھی یہ مقام آرزو کر

عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں
چاک گل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

ALSO READ:
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر | Allama Iqbal

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی | Allama Iqbal

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں | Allama Iqbal

جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *