Poetry

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

Spread the love

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گام عمل
عقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی

شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زناریٔ بت خانۂ ایام ابھی

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی
ہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

سعئ پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیات
تیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

ابر نیساں یہ تنک بخشیٔ شبنم کب تک
میرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

بادہ گردان عجم وہ عربی میری شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی

خبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی

ALSO READ:
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی | ولید رمضان

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں | Allama Iqbal

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *