Poetry

ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

Spread the love

ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہیت

و مرد میداں تو میر لشکرن

وری حضوری تیرے سپاہی

کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی

دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی

پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی

ALSO READ:
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *