Poetry

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

Spread the love

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل

فریب خوردۂ منزل ہے کارواں ورنہ
زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل

نظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل

مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل

اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
ترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل

ALSO READ:
ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

(جون ایلیاء)نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی

سوچتا ہوں کے اس کی یاد آخر،جون ایلیاء

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *