Poetry

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ

Spread the love

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ

یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ نہ تراش آزرانہ

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت
یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ

رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی
کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے مغانہ

مرے ہم صفیر اسے بھی اثر بہار سمجھے
انہیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلۂ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گلہ ہے دوستوں کا نہ شکایت زمانہ

ALSO READ:

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق 

“دل تو پاگل ہے” میں مادھوری ڈکشت کے مدمقابل تمام اداکاراؤں نے کام سے انکار کردیا تھا،کرشمہ

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *