Poetry

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام

اقبال کی مشہور غزلیں

Spread the love

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام

پیر حرم نے کہا سن کے میری رویداد
پختہ ہے تیری فغاں اب نہ اسے دل میں تھام

تھا ارنی گو کلیم میں ارنی گو نہیں
اس کو تقاضا روا مجھ پہ تقاضا حرام

گرچہ ہے افشائے راز اہل نظر کی فغاں
ہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رندانہ عام

حلقۂ صوفی میں ذکر بے نم و بے سوز و ساز
میں بھی رہا تشنہ کام تو بھی رہا تشنہ کام

عشق تری انتہا عشق مری انتہا
تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی نا تمام

آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز
ورنہ ہے مال فقری سلطنت روم و شام

ALSO READ
نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *