Poetry

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

Allama Iqbal Urdu ghazal collection

Spread the love

  • اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
    ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہتعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
    اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لا الٰہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ

راز حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

ALSO READ:
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام

نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *