Poetry

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

ALSO READ:
تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر سانحہ یہ ہے۔جون ایلیاء

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *