Poetry

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا تھم اے رہ رو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

Spread the love

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہ رو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

چل اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے
وہ محفل اٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دور جام آیا

دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اک مرد تن آساں تھا تن آسانوں کے کام آیا

اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا

ALSO READ:
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دمبدم

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *