Poetry

امین راز ہے مردان حر کی درویشی کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

امین راز ہے مردان حر کی درویشی
کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی

نگاہ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیں
نہ آہ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی

طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایا
ترا مرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی

وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جان پاک جسے
یہ رنگ و نم یہ لہو آب و ناں کی ہے بیشی

ALSO READ:
تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ

سوچتا ہوں کے اس کی یاد آخر،جون ایلیاء

کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر سانحہ یہ ہے۔جون ایلیاء

کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سمز بند کرانے کی سفارش

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *