Poetry

کی تیزی نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

علامہ اقبال کی غزلیں

Spread the love

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

کہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گفتاری
کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سواد رومۃ الکبرےٰ میں دلی یاد آتی ہے
وہی عبرت وہی عظمت وہی شان دل آویزی

ALSO READ:
وصل ہے اور فراق طاری ہے، جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سمز بند کرانے کی سفارش

تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

امین راز ہے مردان حر کی درویشی کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *