Poetry

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ

علم فقیہ و حکیم فقر مسیح و کلیم
علم ہے جویائے راہ فقر ہے دانائے راہ

فقر مقام نظر علم مقام خبر
فقر مستی ثواب، علم میں مستی گناہ

علم کا موجود اور فقر کا موجود اور
اشہد ان لا الٰہ اشہد ان لا الٰہ

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کار سپاہ

دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نگہ توڑ دے آئینۂ مہر و ماہ

ALSO READ:
فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

وصل ہے اور فراق طاری ہے، جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *