Poetry

زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں دم ہوا کي موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھي نہيں

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں
دم ہوا کي موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھي نہيں

گل تبسم کہہ رہا تھا زندگاني کو مگر
شمع بولي ، گريہء غم کے سوا کچھ بھي نہيں

راز ہستي راز ہے جب تک کوئي محرم نہ ہو
کھل گيا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھي نہيں

زائران کعبہ سے اقبال يہ پوچھے کوئي
کيا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھي نہيں!

ALSO READ:
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *