Poetry

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش
اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش

کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش

میں نے پایا ہے اسے اشک سحرگاہی میں
جس در ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش

نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں
چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ فروش

صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

ALSO READ:
زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں دم ہوا کي موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھي نہيں

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

امین راز ہے مردان حر کی درویشی کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *