Poetry

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو
کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو

نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا
جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی
کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو

پنپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوز
کہ سازگار نہیں یہ جہان گندم و جو

رہے نہ ایبکؔ و غوریؔ کے معرکے باقی
ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسروؔ

ALSO READ:
عَلم جن کا ہے حق پر اُن کو خیر ِ عام بھیجے گا خدا الفت کے بندوں کو سبھی پیغام بھیجے گ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *