Poetry

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

Allama Iqbal Urdu ghazal

Spread the love

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

نہ ستارے میں ہے نے گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بیباک میں ہے

یا مری آہ میں ہی کوئی شرر زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش جو تری خاک میں ہے

توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و روز
گرچہ الجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے

ALSO READ:
یہ پیران کلیسا و حرم اے وائے مجبوری

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *