Poetry

یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب

Spread the love

یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب
بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب

دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب

جہان صوت و صدا میں سما نہیں سکتی
لطیفۂ ازلی ہے فغان چنگ و رباب

سکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی
فقیہ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب

وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب

سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے
دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب

ہوائے قرطبہ شاید یہ ہے اثر تیرا
مری نوا میں ہے سوز و سرور عہد شباب

ALSO READ:
مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو پلا کے مجھ کو مےلاالٰہ الاہو

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *